کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: تول (وزن) میں زیادہ کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4594
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , دَعَا بِمِيزَانٍ فَوَزَنَ لِي وَزَادَنِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے ترازو منگا کر اس سے مجھے تول کر دیا اور مجھے اس سے کچھ زیادہ دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر بغیر شرط کے خریداری (یا قرض دار) اپنی طرف سے قیمت میں زیادہ کر دے تو اس کو علماء نے مستحب قرار دیا ہے، اور اس کو خفیہ صدقہ سے تعبیر کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4594
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الصلاة 59 (443)، الوکالة 8 (2309)، الاستقراض 7 (2394)، الہبة 32 (3603، 3604)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (715)، سنن ابی داود/البیوع 11(3341)، (تحفة الأشراف: 2578)، مسند احمد (3/299، 302، 363) سنن الدارمی/البیوع 46 (2626) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4595
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " قَضَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَنِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا قرض دیا اور مجھے مزید دیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»