حدیث نمبر: 4557
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ , فَجَاءَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ " , قَالَ : لَا , وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِصَاعَيْنِ , وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلْ , بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ , ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنایا ، وہ «جنیب» ( نامی عمدہ قسم کی ) کھجور لے کر آیا تو آپ نے فرمایا : ” کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح ہیں ؟ “ وہ بولا : نہیں ، اللہ کی قسم ! ہم یہ کھجور دو صاع کے بدلے ایک صاع یا تین صاع کے بدلے دو صاع لیتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کرو ، گھٹیا اور ردی کھجوروں کو درہم ( پیسوں ) سے بیچ دو ، پھر درہم سے «جنیب» خرید لو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہی معاملہ ہر طرح کے پھلوں اور غلوں میں کرنا چاہیئے، اگر کسی کو گھٹیا اور ردی قسم کے بدلے اچھے قسم کا پھل یا غلہ چاہیئے تو وہ قیمت سے خریدے، بدلے میں نہیں۔
حدیث نمبر: 4558
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ خَالِدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ , وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ , فَقَالَ : " أَنَّى لَكُمْ هَذَا ؟ " , قَالُوا : ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا , فَقَالَ : " لَا تَفْعَلْ , فَإِنَّ هَذَا لَا يَصِحُّ , وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ , وَاشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس «ریان» ( نامی عمدہ ) کھجوریں لائی گئیں اور آپ کی «بعل» نامی ( گھٹیا قسم کی ) سوکھی کھجور تھی تو آپ نے فرمایا : ” تمہارے پاس یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ “ لوگوں نے کہا : ہم نے اپنی دو صاع کھجوروں کے بدلے اسے ایک صاع خریدی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کرو ، اس لیے کہ یہ چیز صحیح نہیں ، البتہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو اور پھر اس نقدی سے اپنی ضرورت کی دوسری کھجوریں خریدو “ ۔
حدیث نمبر: 4559
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ , قَالَ : كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمًا بِدِرْهَمَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ردی کھجوریں ملتی تھیں تو ہم دو صاع دے کر ایک صاع ( اچھی کھجوریں ) خرید لیتے تھے ، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” کھجور کے دو صاع ایک صاع کے بدلے ، گیہوں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے اور دو درہم ایک درہم کے بدلے نہ لیے جائیں “ ۔
حدیث نمبر: 4560
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ : كُنَّا نَبِيعُ تَمْرَ الْجَمْعِ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ , وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ , وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ دو صاع ردی کھجوروں کے بدلے ایک صاع ( عمدہ قسم کی کھجوریں ) لیتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک صاع کھجور کے بدلے دو صاع کھجور ، ایک صاع گیہوں کے بدلے دو صاع گی ہوں ، اور ایک درہم کے بدلے دو درہم لینا جائز نہیں “ ۔
حدیث نمبر: 4561
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْغَافِرِ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ : أَتَى بِلَالٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ , فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " , قَالَ :اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوِّهْ , عَيْنُ الرِّبَا لَا تَقْرَبْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برنی نامی کھجور لائے ، تو آپ نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ وہ بولے : یہ میں نے ایک صاع دو صاع دے کر خریدی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” افسوس ! یہ تو عین سود ہے ، اس کے نزدیک مت جانا “ ۔
حدیث نمبر: 4562
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا ، چاندی کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، کھجور کھجور کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، گی ہوں گیہوں کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ، جو جو کے بدلے سود ہے ، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے لیکن ابوسعید رضی اللہ عنہ کی جو صحیحین میں وارد حدیث میں دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں «تفاضل» (کمی بیشی) اور «نسیئہ» (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو جائز اور صحیح ہے اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔