حدیث نمبر: 4509
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ النَّجْشِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «نجش» : ایک چیز کا خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے قیمت بڑھا دینا۔
حدیث نمبر: 4510
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آدمی اپنے ( کسی مسلمان ) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے ، اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے ، اور نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے ، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے ( کہ میں اس سامان کا تو اتنا اتنا مزید دوں گا ) اور نہ کوئی عورت سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے برتن میں انڈیل لے “ ۔
حدیث نمبر: 4511
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ بِهِ مَا فِي صَحْفَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے ، اور نہ کوئی فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے ، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے ، اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے میں انڈیل لے “ ۔