حدیث نمبر: 4461
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، أَنْ يَفْشُوَ الْمَالُ ، وَيَكْثُرَ ، وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ ، وَيَظْهَرَ الْعِلْمُ ، وَيَبِيعَ الرَّجُلُ الْبَيْعَ ، فَيَقُولَ : لَا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ تَاجِرَ بَنِي فُلَانٍ ، وَيُلْتَمَسَ فِي الْحَيِّ الْعَظِيمِ الْكَاتِبُ فَلَا يُوجَدُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ مال و دولت کا پھیلاؤ ہو جائے گا اور بہت زیادہ ہو جائے گا ، تجارت کو ترقی ہو گی ، علم اٹھ جائے گا ۱؎ ، ایک شخص مال بیچے گا ، پھر کہے گا : نہیں ، جب تک میں فلاں گھرانے کے سوداگر سے مشورہ نہ کر لوں ، اور ایک بڑی آبادی میں کاتبوں کی تلاش ہو گی لیکن وہ نہیں ملیں گے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اکثر نسخوں میں «يظهر العلم» ہے، اور بعض نسخوں میں «يظهر الجهل» ہے، یعنی لوگوں کے دنیاوی امور و معاملات میں مشغول ہونے کے سبب جہالت پھیل جائے گی، اور دوسری احادیث کے سیاق کو دیکھتے ہوئے «يظهر العلم» کا معنی یہاں ” علم کے اٹھ جانے یا ختم ہو جانے کے ہوں گے “، واللہ اعلم۔ ۲؎: یعنی ایسے کاتبوں کی تلاش جو عدل و انصاف سے کام لیں اور ناحق کسی کا مال لینے کی ان کے اندر حرص و لالچ نہ ہو۔