مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ قَالَ : " كُلُوا ، وَتَزَوَّدُوا ، وَادَّخِرُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ، پھر فرمایا : ” کھاؤ ، توشہ ( زاد سفر ) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1972)، (تحفة الأشراف: 2936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 124 (1719)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (6)، مسند احمد (3/325، 344) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4432
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا , فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضًا لِمَا كَانُوا نُهُوا عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ` ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک سفر سے آئے تو ان کے گھر والوں نے انہیں قربانی کے گوشت میں سے کچھ پیش کیا ، انہوں نے کہا : میں اسے نہیں کھا سکتا جب تک کہ معلوم نہ کر لوں ، چنانچہ وہ اپنے اخیافی بھائی قتادہ بن نعمان کے پاس گئے ( وہ بدری صحابی تھے ) اور ان سے اس بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : تمہارے بعد نیا حکم ہوا جس سے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے پر سے پابندی ہٹ گئی ۔
وضاحت:
۱؎: اخیافی بھائی وہ بھائی، بہن جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المغازی 12 (3997)، الأضاحی 16(5568)، (تحفة الأشراف: 11072)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (8) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4433
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَكَانَ أَخَا أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا ، فَقَدَّمُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَهُ ، وَنَدَّخِرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ، پھر قتادہ رضی اللہ عنہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے اخیافی بھائی اور بدری صحابی تھے ، ابوسعید نے قتادہ کو ( گوشت ) پیش کیا ، تو وہ بولے : کیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا نہیں ہے ؟ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا : اس سلسلہ میں ایک نیا حکم آیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے روکا تھا ، پھر ہمیں اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (شاذ) (اس سے پہلے والی حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے) میں کھانے سے رکنے سے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے قتادہ رضی الله عنہ ہیں اور اس حدیث میں کھانے سے رکنے والے قتادہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں، جو صحیح بخاری میں ہے وہی زیادہ صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 4434
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ، عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، فَكُلُوا مِنْهَا ، وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " . وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدٌ : وَأَمْسِكُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے روکا تھا : قبروں کی زیارت کرنے سے ، اب ان کی زیارت کرو ، اس زیارت سے تم میں خیر و بھلائی بڑھنی چاہیئے ، میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا ، لیکن اب کھاؤ اور جتنا چاہو روک کر رکھو ، میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے روکا تھا لیکن اب جس برتن میں چاہو پیو ، لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو ۔ محمد بن معدان کی روایت میں «امسکوا» ” روک کر رکھنے “ کا ذکر نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 2034 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4435
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، وَعَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ مَا بَدَا لَكُمْ ، وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا ، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ ، وَاشْرَبُوا ، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا ۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو ، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے ( تو کرے ) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1976)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5654) (صحیح) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویف پا کر صحیح ہے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔