کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مرغی کے گوشت کے حلال ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4351
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أُتِيَ بِدَجَاجَةٍ ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهَا تَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرْتُهُ ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : ادْنُ فَكُلْ ، فَإِنِّي " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ " ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہدم سے روایت ہے کہ` ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرغی لائی گئی تو لوگوں میں سے ایک شخص وہاں سے ہٹ گیا ، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ وہ بولا : میں نے اسے دیکھا کہ وہ کوئی چیز کھا رہی تھی تو میں نے اس کو گندہ سمجھا اور قسم کھا لی کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا ، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : قریب آؤ اور کھاؤ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے ، اور اسے حکم دیا کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 4351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3810 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4352
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقُدِّمَ طَعَامُهُ ، وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى فَلَمْ يَدْنُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : ادْنُ , فَإِنِّي قَدْ " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہدم جرمی کہتے ہیں کہ` ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، اتنے میں انہیں ان کا کھانا پیش کیا گیا اور ان کے کھانے میں مرغی کا گوشت پیش کیا گیا ، لوگوں میں بنی تیم کا ایک سرخ آدمی تھا جیسے وہ غلام ہو ۱؎ ، وہ کھانے کے قریب نہیں آیا ، اس سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : قریب آؤ ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس لیے کہ عام طور پر غلام عجمی ہوتے ہیں جو رومی یا ایرانی اور ترکی ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 4352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3810 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4353
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پنجے والے تمام پرندوں کو کھانے سے اور دانت ( سے پھاڑنے ) والے تمام درندوں کو کھانے سے روکا ۔
وضاحت:
۱؎: اور چونکہ مرغی ان میں سے نہیں ہے اس لیے حلال ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 4353
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3805) ابن ماجه (3234) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأطعمة 33 (3803)، سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3805)، (تحفة الأشراف: 5639)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید 3 (1934)، مسند احمد (1/ 339) (صحیح)»