حدیث نمبر: 4263
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ , فَمَاتَتْ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے اور اس کے اردگرد گھی کو نکال کر پھینک دو اور پھر اسے کھاؤ “ ۔
حدیث نمبر: 4264
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ جَامِدٍ ؟ ، فَقَالَ : " خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَأَلْقُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہیا کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی جمے ہوئے گھی میں گر جائے تو آپ نے فرمایا : ” اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو لے کر پھینک دو “ ۔
حدیث نمبر: 4265
أَخْبَرَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذُوَيْهِ ، أَنَّ مَعْمَرًا ذَكَرَهُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ , عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا ، وَمَا حَوْلَهَا ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہیا کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر جائے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اگر گھی جما ہوا ہو تو اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو نکال پھینکو اور اگر جما ہوا نہ ہو تو تم اس کے قریب نہ جاؤ “ ۔
وضاحت:
۱؎: سند اور علم حدیث کے قواعد کے لحاظ سے یہ حدیث درجہ میں پہلی حدیث سے کم تر ہے، اور اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے ” شاذ “ ہے، لیکن پہلی حدیث کے مضمون ہی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسی قسم کے گھی کا ” اردگرد “ ہو سکتا ہے جو جامد ہو، اور اگر سیال (بہنے والا) ہو تو اس کا ” اردگرد “ کیسے ہو سکتا ہے؟ اسی لیے بہت سے علماء اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4266
أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمِ بْنِ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَدِّي الْخَطَّابُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِثُ بْنُ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَنْزٍ مَيِّتَةٍ , فَقَالَ : " مَا كَانَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الشَّاةِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” اس بکری والوں پر کوئی حرج نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال ( دباغت دے کر ) سے فائدہ اٹھا لیتے “ ۔