حدیث نمبر: 4239
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى شَاةٍ مَيِّتَةٍ مُلْقَاةٍ , فَقَالَ : " لِمَنْ هَذِهِ ؟ " ، فَقَالُوا لِمَيْمُونَةَ : فَقَالَ : " مَا عَلَيْهَا لَوِ انْتَفَعَتْ بِإِهَابِهَا " ، قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَكْلَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک پڑی ہوئی مردار بکری کے پاس سے ہوا ، آپ نے فرمایا : ” یہ کس کی ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : میمونہ کی ۔ آپ نے فرمایا : ” ان پر کوئی گناہ نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال سے فائدہ اٹھاتیں “ ، لوگوں نے عرض کیا : وہ مردار ہے ۔ تو آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ( صرف ) اس کا کھانا حرام کیا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے جسم کے دیگر اعضاء مثلاً بال، دانت، سینگ وغیرہ سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 4240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ كَانَ أَعْطَاهَا مَوْلَاةً لِمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار بکری کے پاس سے ہوا جو آپ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو دی تھی ، آپ نے فرمایا : ” تم نے اس کی کھال سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایا ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ مردار ہے ۔ تو آپ نے فرمایا : ” اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4241
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ يَعْنِي يَزِيدَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَيِّتَةً لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ وَكَانَتْ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : " لَوْ نَزَعُوا جِلْدَهَا فَانْتَفَعُوا بِهِ " ، قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردار بکری کو دیکھا جو ام المؤمنین میمونہ کی لونڈی کی تھی اور وہ بکری صدقے کی تھی ، آپ نے فرمایا : ” اگر لوگوں نے اس کی کھال اتار لی ہوتی اور اس سے فائدہ اٹھایا ہوتا “ ( تو اچھا ہوتا ) ۔ لوگوں نے عرض کیا : وہ مردار ہے ، آپ نے فرمایا : ” صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4242
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ مُنْذُ حِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ ، أَنَّ شَاةً مَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَّا دَفَعْتُمْ إِهَابَهَا , فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ایک بکری مر گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگوں نے اس کی کھال نہیں اتاری کہ اس سے فائدہ اٹھاتے “ ۔
حدیث نمبر: 4243
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمْ فَانْتَفَعْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم لوگوں نے اس کی کھال نہیں اتاری کہ اسے دباغت دے کر فائدہ اٹھا لیتے “ ۔
حدیث نمبر: 4244
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَاةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے اور فرمایا : ” کیا تم لوگوں نے اس کی کھال سے فائدہ نہیں اٹھایا “ ۔
حدیث نمبر: 4245
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا , فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا فَمَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِيهَا حَتَّى صَارَتْ شَنًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہماری ایک بکری مر گئی تو ہم نے اس کی کھال کو دباغت دی ، پھر ہم اس میں ہمیشہ نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی ہو گئی ۔
حدیث نمبر: 4246
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کھال کو دباغت دے دی جائے وہ پاک ہو گئی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حلال جانور کی کھال دباغت کے بعد پاک ہو گی، اور اس کا استعمال جائز ہو گا۔
حدیث نمبر: 4247
أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْخَيْرِ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنَّا نَغْزُو هَذَا الْمَغْرِبَ ، وَإِنَّهُمْ أَهْلُ وَثَنٍ وَلَهُمْ قِرَبٌ يَكُونُ فِيهَا اللَّبَنُ وَالْمَاءُ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " الدِّبَاغُ طَهُورٌ " ، قَالَ ابْنُ وَعْلَةَ : عَنْ رَأْيِكَ أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَلْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن وعلہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : ہم لوگ مغرب کے علاقہ میں جہاد کو جا رہے ہیں ، وہاں کے لوگ بت پرست ہیں ، ان کے پاس مشکیں ہیں جن میں دودھ اور پانی ہوتا ہے ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : دباغت کی ہوئی کھالیں پاک ہوتی ہیں ۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ نے کہا : یہ آپ کا خیال ہے یا کوئی بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔ انہوں نے کہا : بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سنی ) ہے ۔
حدیث نمبر: 4248
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ ، قَالَتْ : مَا عِنْدِي إِلَّا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيْتَةٍ ، قَالَ : " أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا " ، قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ایک عورت کے پاس سے پانی منگوایا ۔ اس نے کہا : میرے پاس تو ایک ایسی مشک کا پانی ہے جو مردار کی کھال کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم نے اسے دباغت نہیں دی تھی ؟ “ وہ بولی : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4249
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ ؟ ، فَقَالَ : " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار کی کھال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4250
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ ؟ ، فَقَالَ : " دِبَاغُهَا ذَكَاتُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مردے کی کھالوں کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4251
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ذَكَاةُ الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردار کی کھال کی پاکی ہی اس کی دباغت ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4252
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَكَاةُ الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردار کی کھال کی پاکی ہی اس کی دباغت ہے “ ۔