کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عتیرہ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4233
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَمِيلٌ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : كُنَّا نَعْتِرُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : " اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَأَطْعِمُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو ، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الفرع والعتيرة / حدیث: 4233
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الضحایا 2 (2830)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 16 (3160)، الذبائح 2 (3167)، (تحفة الأشراف: 11586)، مسند احمد (5/75، 76)، ویأتي فیما یلي: 4234، 2236، 4237 (صحیح)»
حدیث نمبر: 4234
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدٍ , وَرُبَّمَا قَالَ : عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَبَا قِلَابَةَ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ وَهُوَ بِمِنًى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ ، فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " اذْبَحُوا فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَأَطْعِمُوا " ، قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے منیٰ میں پکار کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ جاہلیت میں رجب میں عتیرہ کرتے تھے ۔ تو اللہ کے رسول ! ہمارے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ذبح کرو جس مہینے میں چاہو اور اللہ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ “ ، اس نے کہا : ہم فرع ذبح کرتے تھے ، تو آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر چرنے والے جانور میں ایک فرع ہے ، جسے تم چراتے ہو ، جب وہ مکمل اونٹ ہو جائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الفرع والعتيرة / حدیث: 4234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 4235
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ . وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْمَا تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْخَيْرِ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : " اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَرَعٌ , تَغْذُوهُ غَنَمُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنی ہذیل کے` ایک شخص نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے روکا تھا تاکہ وہ تم سب تک پہنچ جائے ۔ اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور اٹھا ( بھی ) رکھو اور ( صدقہ دے کر ) ثواب ( بھی ) کماؤ ۔ سن لو ، یہ دن کھانے ، پینے اور اللہ تعالیٰ کی یاد ( شکر ادا کرنے ) کے ہیں ۔ ایک شخص نے کہا : ہم لوگ رجب کے مہینہ میں زمانہ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو ، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ “ ۔ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے ، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر چرنے والی بکری میں ایک فرع ہے ، جسے تم چراتے ہو ، جب وہ مکمل اونٹ ہو جائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو ، یہی چیز بہتر ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الفرع والعتيرة / حدیث: 4235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الضحایا 10(2813)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 16 (3160)، (تحفة الأشراف: 11585) (صحیح)»