حدیث نمبر: 4062
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ ، أَوْ قَتَلَ عَمْدًا فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ ، أَوِ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں : ایک وہ شخص جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا تو اسے رجم کیا جائے گا ، یا جس نے جان بوجھ کر قتل کیا تو اس کو اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا ، یا وہ شخص جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ، تو اسے بھی قتل کیا جائے گا ۔
وضاحت:
۱؎: مرتد کے سلسلہ میں اجماع ہے کہ اسے قتل کرنا واجب ہے، اس سلسلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4063
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِثَلَاثٍ : أَنْ يَزْنِيَ بَعْدَ مَا أُحْصِنَ ، أَوْ يَقْتُلَ إِنْسَانًا فَيُقْتَلَ ، أَوْ يَكْفُرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَيُقْتَلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں تین صورتوں کے سوائے : یہ کہ وہ شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے ، یا وہ کسی انسان کو قتل کرے تو اسے قتل کیا جائے یا وہ اسلام لانے کے بعد کافر ( مرتد ) ہو جائے تو اسے قتل کیا جائے “ ۔
حدیث نمبر: 4064
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنے دین و مذہب کو بدلا اسے قتل کر دو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دین سے مراد دین اسلام ہے، لہٰذا اگر کوئی کفر سے اسلام میں داخل ہوا یا کسی دوسری ملت سے کسی اور ملت میں داخل ہوا تو اس کے سلسلہ میں یہ حکم نہیں ہے، واضح رہے کہ قتل کا حکم مرد اور عورت دونوں کو شامل ہے۔
حدیث نمبر: 4065
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ نَاسًا ارْتَدُّوا ، عَنِ الْإِسْلَامِ , فَحَرَّقَهُمْ عَلِيٌّ بِالنَّارِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ أَحَدًا " , وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ سے روایت ہے کہ` کچھ لوگ اسلام سے پھر گئے ۱؎ تو انہیں علی رضی اللہ عنہ نے آگ میں جلا دیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” تم کسی کو اللہ کا عذاب نہ دو “ ، اگر میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو اپنا دین بدل ڈالے اسے قتل کر دو “ ۔
وضاحت:
۱؎: کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ عبداللہ بن سبا کے متبعین و پیروکاروں میں سے تھے، انہوں نے فتنہ پھیلانے اور امت کو گمراہ کرنے کے لیے اسلام کا اظہار کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4066
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنا دین بدلا اسے قتل کر دو “ ۔
حدیث نمبر: 4067
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنا دین بدلا اسے قتل کر دو “ ۔
حدیث نمبر: 4068
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبَّادٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنا دین بدلا اسے قتل کر دو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ عباد کی حدیث کی بہ نسبت صواب کے زیادہ قریب ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی قتادہ کے طریق سے اس روایت کا (بجائے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حسن بصری کی روایت سے) مرسل ہونا ہی صحیح ہے، ورنہ قتادہ کے سوا دوسروں کے طریق سے یہ روایت مرفوع ہے۔
حدیث نمبر: 4069
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنا دین بدل لیا اسے قتل کر دو “ ۔
حدیث نمبر: 4070
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَلِيًّا أُتِيَ بِنَاسٍ مِنَ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا فَأَحْرَقَهُمْ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ جاٹ لائے گئے جو بت پوجتے تھے تو آپ نے انہیں جلا دیا ۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس اتنا کہا تھا ” جس نے اپنا دین بدل لیا ، اسے قتل کر دو “ ۔
وضاحت:
۱؎: علی رضی اللہ عنہ کا یہ فعل ان کی اپنی رائے اور اجتہاد کی بنیاد پر تھا، یہی وجہ ہے کہ جب انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی یہ حدیث پہنچی تو انہوں نے اس سے رجوع کر لیا۔ (واللہ اعلم)
حدیث نمبر: 4071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ، ثُمَّ أَرْسَلَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا قَدِمَ ، قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ . فَأَلْقَى لَهُ أَبُو مُوسَى وِسَادَةً لِيَجْلِسَ عَلَيْهَا , فَأُتِيَ بِرَجُلٍ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : " لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ , قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَلَمَّا قُتِلَ قَعَدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا ، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، جب وہ ( معاذ ) یمن آئے تو کہا : لوگو ! میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے گاؤ تکیہ رکھ دیا تاکہ وہ اس پر ( ٹیک لگا کر ) بیٹھیں ، پھر ایک شخص ان کے پاس لایا گیا جو یہودی تھا ، وہ اسلام قبول کر لینے کے بعد کافر ہو گیا تھا ، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے اسے قتل نہ کر دیا جائے ۔ ( ایسا ) تین بار ( کہا ) ، پھر جب اسے قتل کر دیا گیا تو وہ بیٹھے ۔
حدیث نمبر: 4072
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ : زَعَمَ السُّدِّيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ ، وَقَالَ : " اقْتُلُوهُمْ ، وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ " . عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ ، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا ، وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ , فَقَتَلَهُ ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ النَّاسُ فِي السُّوقِ فَقَتَلُوهُ ، وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ : أَخْلِصُوا ، فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا . فَقَالَ عِكْرِمَةُ : وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي مِنَ الْبَحْرِ إِلَّا الْإِخْلَاصُ لَا يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ ، أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِهِ ، فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا . فَجَاءَ فَأَسْلَمَ ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ ، فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ . قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ " . فَقَالُوا : وَمَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا فِي نَفْسِكَ هَلَّا ، أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ أَعْيُنٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب فتح مکہ کا دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امان دے دی ، سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے ، اور فرمایا : ” انہیں قتل کر دو چاہے تم انہیں کعبہ کے پردے سے چمٹا ہوا پاؤ “ ، یعنی عکرمہ بن ابی جہل ، عبداللہ بن خطل ، مقیس بن صبابہ ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۱؎ ۔ عبداللہ بن خطل اس وقت پکڑا گیا جب وہ کعبے کے پردے سے چمٹا ہوا تھا ۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر ( رضی اللہ عنہما ) اس کی طرف بڑھے ، سعید عمار پر سبقت لے گئے ، یہ زیادہ جوان تھے ، چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ، مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا تو اسے قتل کر دیا ۔ عکرمہ ( بھاگ کر ) سمندر میں ( کشتی پر ) سوار ہو گئے ، تو اسے آندھی نے گھیر لیا ، کشتی کے لوگوں نے کہا : سب لوگ خالص اللہ کو پکارو اس لیے کہ تمہارے یہ معبود تمہیں یہاں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ عکرمہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر سمندر سے مجھے سوائے توحید خالص کے کوئی چیز نہیں بچا سکتی تو خشکی میں بھی اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں بچا سکتی ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو مجھے میری اس مصیبت سے بچا لے گا جس میں میں پھنسا ہوا ہوں تو میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں ان کو مہربان اور بخشنے والا پاؤں گا ، چنانچہ وہ آئے اور اسلام قبول کر لیا ۔ رہا عبداللہ بن ابی سرح ، تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا ۔ تو عثمان ان کو لے کر آئے اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کھڑا کر دیا اور بولے : اللہ کے رسول ! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے ، آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا ، ہر مرتبہ آپ انکار کر رہے تھے ، لیکن تین مرتبہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی ، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ” کیا تم میں کوئی ایک شخص بھی سمجھ دار نہ تھا جو اس کی طرف اٹھ کھڑا ہوتا جب مجھے اس کی بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچتے دیکھا کہ اسے قتل کر دے ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمیں کیا معلوم کہ آپ کے دل میں کیا ہے ؟ آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کر دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی نبی کے لیے یہ مناسب اور لائق نہیں کہ وہ کنکھیوں سے خفیہ اشارہ کرے “ ۔
وضاحت:
۱؎: عکرمہ بن ابی جہل اپنے ایام شرک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پنے باپ کے ساتھ مل کر بہت تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے، ابوجہل بدر کے دن مارا گیا، اور عکرمہ کو فتح مکہ کے دن قتل کر دینے کا حکم ہوا، اور عبداللہ بن خطل اسلام لا کر مرتد ہو گیا تھا، نیز دو لونڈیاں رکھتا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو (مذمت) میں گایا کرتی تھیں، اور مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن ابی سرح دونوں مرتد ہو گئے تھے۔ ۲؎: «خائنۃ الأعین» دل میں جو بات ہو زبان سے نہ کہہ کر کے آنکھوں سے اشارہ کیا جائے، یہ بات ایک نبی کی شان کے خلاف ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔