کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: قسم میں استثنا یعنی ”ان شاءاللہ“ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3884
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ هَذَا ؟ " . قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ . قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ , مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ " . فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ” اس کا کیا حال ہے ؟ “ ان لوگوں نے عرض کیا : اس نے ( کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے ، آپ نے فرمایا : ” اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں ، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے ، چنانچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3884
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3885
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُ هَذَا ؟ " . فَقِيلَ : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ . فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا " ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا ، آپ نے فرمایا : ” اس کا کیا معاملہ ہے ؟ “ عرض کیا گیا : اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے ، آپ نے فرمایا : ” اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا ، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3885
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 799) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3886
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ , فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَقَدِ اسْتَثْنَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی بات کی قسم کھائے ، پھر وہ ان شاءاللہ کہے تو اس نے استثناء کر لیا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الأیمان 7 (1532)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 6 (2104)، (تحفة الأشراف: 13523)، مسند احمد (2/309) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3887
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ، " قَالَ سُلَيْمَانُ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقِيلَ لَهُ : قُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ ، فَطَافَ بِهِنَّ , فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ , وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلیمان علیہ السلام نے کہا : آج رات میں نوے ( ۹۰ ) عورتوں ( بیویوں ) کے پاس جاؤں گا ، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا ۔ ان سے کہا گیا : آپ ان شاءاللہ کہیں ، لیکن انہوں نے نہیں کہا ۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر انہوں نے ” ان شاءاللہ “ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پا لینے میں کامیاب بھی رہتے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے پہلے کتاب الأیمان والنذور میں قسم اور نذر کو دو شرط مان کر اس باب میں تیسری شرط کا ذکر کیا، اس لیے کہ ان میں اکثر و بیشتر استثنا اور تعلیق کا تذکرہ ہوتا ہے، اسی لیے اس کو تیسری شرط کا عنوان دے کر یہ بتایا کہ اس میں مزارعت اور و ثائق کا تذکرہ ہو گا (التعلیقات السلفیۃ)۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 3887
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/النکاح 19 (5242)، صحیح مسلم/الأیمان 5 (1654)، (تحفة الأشراف: 13518)، مسند احمد (2/275) (صحیح)»