کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: قسم کھانے کے بعد استثنا کرنے یعنی ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3818
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ , قَالَ : سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ , فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ , وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی بات کی قسم کھائے ، پھر اس سے بہتر بات پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے “ ۔
حدیث نمبر: 3819
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ سُفْيَانَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ , عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ ابْنَ عَمٍّ لِي , أَتَيْتُهُ أَسْأَلُهُ , فَلَا يُعْطِينِي , وَلَا يَصِلُنِي ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَيَّ فَيَأْتِينِي , فَيَسْأَلُنِي وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ , وَلَا أَصِلَهُ . " فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ , وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا ؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ۱؎ ، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے ، میں نے قسم کھا لی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا ، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی نہ ہی وہ رشتہ داری نبھاتا ہے اور نہ ہی بھائیوں جیسا سلوک کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 3820
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ : أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ , وَيُونُسُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ , فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ , وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی چیز کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو “ ۔
حدیث نمبر: 3821
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , قَالَ : قَالَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ , فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا , وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو “ ۔
حدیث نمبر: 3822
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي حَدِيثِهِ , عَنْ جَرِيرٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ , فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ , وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو “ ۔
حدیث نمبر: 3823
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ , وَلَا فِي مَعْصِيَةٍ , وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس چیز میں کوئی نذر ، اور کوئی قسم نہیں ہوتی ، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک نہیں اس میں نذر اور قسم نہیں، لیکن دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر اور قسم تو ہو جاتی ہے لیکن ان کو پورا نہیں کیا جائے گا اور (قسم کا) کفارہ ادا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3824
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى , فَإِنْ شَاءَ مَضَى , وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے ، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہیں ہو گا اس لیے کہ اس کی قسم اللہ کی مرضی (مشیت) پر معلق و منحصر ہو گئی، اسی لیے وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا۔