حدیث نمبر: 3739
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُرْقِبُوا أَمْوَالَكُمْ فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ لِمَنْ أُرْقِبَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مال کا رقبیٰ نہ کرو ، اور جس نے کسی چیز کا رقبیٰ کیا تو وہ چیز اسی کی ہو گی جس کو وہ بطور رقبیٰ دی گئی “ ۔
حدیث نمبر: 3740
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُعْمِرَهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِمَنْ أُرْقِبَهَا وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ ۱؎ لاگو ہو گا ، اور وہ اسی کا حق ہو گا جسے وہ عمریٰ کیا گیا ہے ، اور رقبیٰ لاگو ہو گا ، اور یہ اسی کا ہو گا جسے وہ رقبیٰ کیا گیا ہو اور اپنا ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: زمانۂ جاہلیت کا عمریٰ یہ تھا کہ گھر یا زمین کسی کو صرف زندگی بھر کے لیے دی جاتی تھی، لیکن اسلام میں اب وہ اس کی موت کے بعد اس کے وارثین کے اندر منتقل ہو جائے گی، ہبہ کرنے والے کو واپس نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 3741
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى سَوَاءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` عمریٰ اور رقبیٰ دونوں برابر ہیں ( ان میں کچھ فرق نہیں ) ۔
حدیث نمبر: 3742
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَا تَحِلُّ الرُّقْبَى ، وَلَا الْعُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ وَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رقبیٰ اور عمریٰ جائز نہیں ہیں ۱؎ لیکن اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ کسی کو دی تو وہ اسی کی ہو جائے گی جسے عمریٰ میں دی گئی ہے ، اور جس نے کسی کو کوئی چیز رقبیٰ کی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی جسے اس نے رقبیٰ کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایسا کرنا مصلحتا کسی کے لیے مناسب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3743
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَا تَصْلُحُ الْعُمْرَى ، وَلَا الرُّقْبَى فَمَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا أَوْ أَرْقَبَهُ فَإِنَّهُ لِمَنْ أُعْمِرَهُ وَأُرْقِبَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ أَرْسَلَهُ حَنْظَلَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` عمریٰ اور رقبیٰ کرنا جائز نہیں ، لیکن جس کسی نے کسی کو کوئی چیز عمریٰ یا رقبیٰ میں دی تو جس کو دی ہے وہ چیز اسی کی ہو جائے گی ، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ( یعنی مرنے کے بعد اس کے ورثہ کو ملے گی ) ۔ حنظلہ نے اس حدیث کو مرسلاً بیان کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3744
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الرُّقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ رُقْبَى فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طاؤس کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رقبیٰ کرنا جائز نہیں ، لیکن جس کسی کو رقبیٰ میں کوئی چیز دی گئی تو ( وہ چیز اسی کی ہو گی اور ) اس میں میراث نافذ ہو گی “ ۔
حدیث نمبر: 3745
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَى مِيرَاثٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ میراث ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی گھر یا زمین جس کو بطور عمریٰ دی گئی ہے اس کے مرنے پر اس کے وارثین میں بطور وراثت منتقل ہو گی۔
حدیث نمبر: 3746
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ ، عَنْ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ وارث کا حق ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جو چیز کسی کو صرف اس کی زندگی بھر کے لیے دے دی گئی تو اس کے مرنے کے بعد وہ چیز اس کے ورثاء میں منتقل ہو جائے گی دینے والے کو واپس نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 3747
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ لاگو ہو گا “ ۔
حدیث نمبر: 3748
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ وارث کا حق ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ وارث کا حق ہے “ ، واللہ اعلم ( اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ) ۔