کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: باپ بیٹے کو دے کر واپس لے لے اس کا بیان اور اس حدیث کے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3719
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَرْجِعُ أَحَدٌ فِي هِبَتِهِ إِلَّا وَالِدٌ مِنْ وَلَدِهِ ، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص کسی کو کوئی چیز بطور ہبہ دے کر واپس نہیں لے سکتا ، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر پھر واپس لے سکتا ہے ، ( سن لو ) ہبہ کر کے واپس لینے والا ایسا ہی ہے جیسے کوئی قے کرے کے چاٹے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الهبة / حدیث: 3719
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الہبات 2 (2378مختصراً)، (تحفة الأشراف: 8722)، سنن ابی داود/البیوع 83 (3540)، مسند احمد (2/182) (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 3720
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعَانِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةً ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي عَطِيَّةً ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ کسی کو کوئی تحفہ دے پھر اسے واپس لے ۱؎ سوائے باپ کے جسے وہ اپنے بیٹے کو دیتا ہے ، اس شخص کی مثال جو کوئی عطیہ دیے کر اسے واپس لے لے اس کتے جیسی ہے جس نے ( خوب ) کھا لیا ہو یہاں تک کہ جب وہ آسودہ ہو جائے تو قے کرے پھر اسے چاٹے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں ہبہ کر کے واپس لینے والے کو کتے سے تشبیہ دی گئی ہے اور ہبہ کی ہوئی چیز کو قے سے، جس سے انسان سخت کراہت محسوس کرتا ہے۔ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ ہبہ کی ہوئی چیز کا واپس لینا حرام ہے، لیکن باپ کا اپنے بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کر کے پھر اس سے واپس لے لینا اس مذکورہ حکم سے مستثنیٰ ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الهبة / حدیث: 3720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/البیوع 83 (3539)، سنن الترمذی/البیوع 62 (1299)، الولاء والبراء 7 (2131، 2132)، سنن ابن ماجہ/الہبات 1 (2377)، (تحفة الأشراف: 7097)، مسند احمد (2/27، 78)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3733 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3721
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ الْمَقْدِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَهُوَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , عَنْ وُهَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہبہ کر کے اسے لینے والا کتے کی طرح ہے ، جو قے کرتا ہے پھر اسی کو چاٹتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الهبة / حدیث: 3721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الہبة 14 (2589)، صحیح مسلم/الہبات 2 (1622)، (تحفة الأشراف: 5712)، مسند احمد (1/250، 291، 327، ویأتي عند المؤلف برقم: 3731 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3722
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَهَبَ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا مِنْ وَلَدِهِ " ، قَالَ طَاوُسٌ : كُنْتُ أَسْمَعُ وَأَنَا صَغِيرٌ " عَائِدٌ فِي قَيْئِهِ فَلَمْ نَدْرِ أَنَّهُ ضَرَبَ لَهُ مَثَلًا ، قَالَ : فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ ، ثُمَّ يَقِيءُ ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تابعی طاؤس کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کوئی ہبہ دے پھر اسے واپس لے ، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر اس سے واپس لے سکتا ہے “ ۔ طاؤس کہتے ہیں : قے کر کے اسے چاٹنے کی بات میں سنتا تھا اور ( اس وقت ) میں چھوٹا تھا ۔ میں یہ نہیں جان سکا تھا کہ آپ نے اسے بطور مثال بیان کیا ہے ، ( تو اب سنو ) جو شخص ایسا کرے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے ، پھر اسے چاٹتا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الهبة / حدیث: 3722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: 5755، 15597) (صحیح) (یہ مرسل ہے، مگر سابقہ سند میں مرفوع ہے)»