کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3690
قَالَ : الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَقَالَ : " اقْضِهِ عَنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مر گئیں ۔ تو آپ نے فرمایا : ” اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو “ ۔
حدیث نمبر: 3691
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ عَنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میری ماں مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں ۔
حدیث نمبر: 3692
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْضِهِ عَنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو “ ۔
حدیث نمبر: 3693
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ ، قَالَ : " اقْضِهِ عَنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : میری ماں انتقال کر گئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کر سکی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو “ ۔
حدیث نمبر: 3694
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " سَقْيُ الْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ماں مر گئیں ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، میں نے پوچھا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ( پیاسوں کو ) پانی پلانا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 3695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سَقْيُ الْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کہا : اللہ کے رسول ! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” پانی پلانا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ پانی آب حیات ہے زیادہ دیر تک نہ ملے تو آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔
حدیث نمبر: 3696
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سَقْيُ الْمَاءِ " , فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، انہوں نے کہا : کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” پانی پلانا “ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل ۔