کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: گھوڑیوں پر گدھے چڑھا کر خچر پیدا کرنا معیوب بات ہے۔
حدیث نمبر: 3610
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ ، فَرَكِبَهَا فَقَالَ : " عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ لَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ میں خچر دیا گیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی ۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھا ( کر جفتی کرا ) دیں تو ہمارے پاس اس جیسے ( بہت سے خچر ) ہو جائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو نادان و ناسمجھ ہوتے ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ گھوڑوں میں جو بات ہے وہ خچروں میں نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الخيل / حدیث: 3610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الجہاد 59 (2565)، (تحفة الأشراف: 10184)، مسند احمد (1/98، 100، 158) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3611
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ ، قَالَ خَمْشًا : هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِأَمْرِهِ فَبَلَّغَهُ ، وَاللَّهِ مَا " اخْتَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةٍ : " أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ ، وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ` میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا ہو سکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں ۔ انہوں نے کہا : تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے تھے ، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا ، آپ نے اسے پہنچا دیا ۔ قسم اللہ کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامۃ الناس سے ہٹ کر ہم اہل بیت سے تین باتوں کے سوا اور کوئی خصوصیت نہیں برتی ۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کریں ، ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں اور نہ ہی گدھوں کو گھوڑیوں پر کدائیں ( جفتی کرائیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الخيل / حدیث: 3611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 141 (صحیح)»