حدیث نمبر: 3608
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَمُرُّ بِي ، فَيَقُولُ : يَا خَالِدُ ، اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا خَالِدُ ، تَعَالَ أُخْبِرْكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ ، يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ ، وَارْمُوا وَارْكَبُوا ، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَيْسَ اللَّهْوُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ : تَأْدِيبِ الرَّجُلِ فَرَسَهُ ، وَمُلَاعَبَتِهِ امْرَأَتَهُ ، وَرَمْيِهِ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا أَوْ قَالَ كَفَرَ بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالد بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ` عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہمارے قریب سے گزرا کرتے تھے ، کہتے تھے : اے خالد ! ہمارے ساتھ آؤ ، چل کر تیر اندازی کرتے ہیں ، پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں سستی سے ان کے ساتھ نکلنے میں دیر کر دی تو انہوں نے آواز لگائی : خالد ! میرے پاس آؤ ۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی ایک بات بتاتا ہوں ، چنانچہ میں ان کے پاس گیا ۔ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا : ( ایک ) بھلائی حاصل کرنے کے ارادہ سے تیر بنانے والا ، ( دوسرا ) تیر چلانے والا ، ( تیسرا ) تیر پکڑنے والا ، اٹھا اٹھا کر دینے والا ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تیر اندازی کرو ، گھوڑ سواری کرو اور تمہاری تیر اندازی مجھے تمہاری گھوڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے ۔ ( مباح و مندوب ) لہو و لذت یابی ، تفریح و مزہ تو صرف تین چیزوں میں ہے : ( ایک ) اپنے گھوڑے کو میدان میں کار آمد بنانے کے لیے سدھانے میں ، ( دوسرے ) اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ، کھیل کود میں اور ( تیسرے ) اپنی کمان و تیر سے تیر اندازی کرنے میں اور جو شخص تیر اندازی جاننے ( و سیکھنے ) کے بعد اس سے نفرت و بیزاری کے باعث اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کی ( جو اسے حاصل تھی ) ناشکری ( و ناقدری ) کی ۔ راوی کو شبہ ہو گیا ہے کہ آپ نے اس موقع پر «کفرہا» کہا یا «کفر بہا» کہا ۔