حدیث نمبر: 3598
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ : الْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالدَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نحوست تین چیزوں میں ہے ، عورت ، گھوڑے اور گھر میں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر نحوست بات عملاً مان لی جائے یا یہ کہ لوگ معاشرہ میں ایسا ہی سمجھتے اور سوچتے ہیں تو عورت کی نحوست یہ ہے کہ عورت زبان دراز یا بدخلق ہو اور گھوڑے کی نحوست یہ ہے کہ لات مارے، دانت کاٹے اور گھر کی نحوست یہ ہے کہ پڑوسی اچھے نہ ہوں یا گرمی و سردی کے لحاظ سے آرام دہ نہ ہو، اس طرح سے ان چیزوں سے آدمی متوحش ہوتا ہے، اور اپنے جذبات کی تعبیر نحوست کے لفظ سے کرتا ہے، لیکن اس کا معنی یہی ہوتا ہے جو ہم نے ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 3599
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نحوست گھر میں ، عورت میں اور گھوڑے میں ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3600
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنْ يَكُ فِي شَيْءٍ فَفِي الرَّبْعَةِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر نحوست کسی چیز میں ہو سکتی ہے تو گھر ، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: لگتا ہے کہ امام نسائی کے یہاں بھی راجح یہی لفظ ہے کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہو سکتی تو ان چیزوں میں ہوتی اس لیے کہ پہلی دونوں حدیثوں میں «الشؤم مطلقاً» کی تخریج کی اور آخر میں جابر کی حدیث دے کر اپنا فیصلہ سنا دیا، اس طرح سے یہ مثال امام نسائی کے طریقہ ترجیح میں ایک عمدہ مثال مانی جانی چاہیئے۔