کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کس طرح کا گھوڑا اچھا اور پسندیدہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3595
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْبَزَّازُ هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ ، وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَكْفَالِهَا ، وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ ، وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صحابی رسول ابو وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( اپنے بچوں کے ) نام انبیاء کے ناموں پر رکھو ، اور اللہ کے نزدیک سب ناموں میں زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہے ۱؎ ، گھوڑے باندھو ، ان کی پیشانی سہلاؤ اور ان کے پٹھوں کی مالش کرو ، ان کے گلے میں قلادے لٹکاؤ ، لیکن تانت کے نہیں ، کمیتی ( سرخ سیاہ رنگ والے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں یا اشقر ( سرخ زرد رنگ والے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانیاں اور ٹانگیں سفید ہوں یا «ادھم» ( کالے رنگ کے ) گھوڑے رکھو جن کی پیشانی اور ٹانگوں پر سفیدی ہو “ ( یہ گھوڑے اچھے اور خیر و برکت والے ہوتے ہیں ) ۔
وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ یہ اور انہیں دونوں جیسے ایسے نام رکھو جن میں عبودیت کا اعتراف اور اظہار ہو۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الخيل / حدیث: 3595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2543،2544،2553،4950) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الجہاد 44 (2544)، 50 (2553)، (تحفة الأشراف: 15519، 15520، 15521)، مسند احمد ش (4/345) (حسن) (اس کے راوی عقیل بن شبیب مجہول ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، دیکھئے صحیح ابوداود 2301، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 1040، 904، تراجع الالبانی 46، 487) لیکن (تسموا بأسماء الأنبيائ) کا فقرہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے)۔»