کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: شرمگاہ کو کسی کے لیے حلال کر دینا (درست نہیں ہے)۔
حدیث نمبر: 3362
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ ، قَالَ : " إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا : اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے ( آدمی کو ) سو کوڑے ماروں گا ۱؎ ، اور اگر اس ( کی بیوی ) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ بغیر جائز صورت کے کسی کے لیے کسی کی شرمگاہ حلال نہیں ہوتی، اس لیے بطور تأدیب اسے سو کوڑے لگیں گے۔ ۲؎: اس لیے کہ اس نے شادی شدہ ہوتے ہوئے جرم زنا کا ارتکاب کیا۔ اکثر اہل علم کا عمل اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی بیوی کی لونڈی سے اگر جماع کرے تو اس پر حد نہیں پڑے گی۔ ان کا خیال ہے کہ نعمان بن بشیر کو اس مسئلہ میں دھوکا ہو گیا ہے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 28 (4458)، سنن الترمذی/الحدود 21 (1452)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2551)، (تحفة الأشراف: 11613)، مسند احمد (4/272، 273، 275، 276، 277)، سنن الدارمی/الحدود 20 (2375) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ حبیب بن سالم‘‘ میں بہت کلام ہے، نیز خطابی کے بقول: نعمان رضی الله عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے)»
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَيُنْبَزُ قُرْقُورًا ، أَنَّهُ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ ، فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، فَقَالَ : " لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ ، فَكَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجُلِدَ مِائَةً " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَكَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ` نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے ( برے لقب ) «قرقور» ۱؎ کہہ کر پکارتے تھے ۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت ( زنا ) کر بیٹھا ، یہ معاملہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا ، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کر دیا تھا تب تو ( تعزیراً ) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا ۔ ( پوچھنے پر پتہ لگا کہ ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے حبیب بن سالم کو ( خط ) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی ۔
وضاحت:
۱؎: «قرقور» لمبی کشتی کو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
حدیث نمبر: 3364
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ : " إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَأَجْلِدْهُ مِائَةً ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَأَرْجُمْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ` نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا فرمایا : ” اگر اس کی بیوی نے اسے اس کی اجازت دے دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اس نے اس کے لیے اسے حلال نہ کیا ہو گا تو میں اسے ( یعنی شوہر کو ) سنگسار کر دوں گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3364
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3362 (ضعیف)»
حدیث نمبر: 3365
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ ، قَالَ : " قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ ، إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا ، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا ( اس طرح ) فرمایا : اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی اور اگر ( مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس ( مرد ) کی ہو جائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3365
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 28 (4460)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2552) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4559)، مسند احمد (3/476 و5/6) (ضعیف)»
حدیث نمبر: 3366
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ : أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ جَارِيَةً لِامْرَأَتِهِ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ مَالِهِ ، وَعَلَيْهِ الشَّرْوَى لِسَيِّدَتِهَا ، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لِسَيِّدَتِهَا وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن محبق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا ، یہ قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اگر اس نے اس لونڈی کے ساتھ زنا بالجبر ( زبردستی زنا ) کیا ہے تو یہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو گی اور اسے اس جیسی دوسری لونڈی اس کی مالکہ کو دینی ہو گی اور اگر لونڈی نے اس کام میں مرد کا ساتھ دیا ہے ( اور اس کی خوشی و رضا مندی سے یہ کام ہوا ہے ) تو یہ لونڈی اپنی مالکہ ( یعنی بیوی ) ہی کی رہے گی اور اس ( شوہر ) کے مال سے اس جیسی دوسری لونڈی ( خرید کر ) اس کی مالکہ کو ملے گی “ ( گویا یہ پرائی عورت سے جماع کرنے کا جرمانہ ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3366
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (ضعیف)»