مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: (جماع کے دوران) شرمگاہ سے باہر منی کے اخراج کا بیان۔
حدیث نمبر: 3329
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَرَدَّ الْحَدِيثَ حتى رده إلى أبي سعيد الخدري , قَالَ : ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَمَا ذَاكُمْ " قُلْنَا : الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ فَيُصِيبُهَا وَيَكْرَهُ الْحَمْلَ ، وَتَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ ، قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا یعنی عزل کا ذکر ہوا ، تو آپ نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ ( ذرا تفصیل بتاؤ ) ہم نے کہا : آدمی کے پاس بیوی ہوتی ہے ، اور وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور حمل کو ناپسند کرتا ہے ، ( ایسے ہی ) آدمی کے پاس لونڈی ہوتی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے ، اور نہیں چاہتا کہ اس کو اس سے حمل رہ جائے ۲؎ ، آپ نے فرمایا : ” اگر تم ایسا نہ کرو تو تمہیں نقصان نہیں ہے ، یہ تو صرف تقدیر کا معاملہ ہے “ ۳؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «عزل» جماع کے دوران شرمگاہ سے باہر منی خارج کرنا۔ ۲؎: اس لیے جماع کے دوران جب انزال کا وقت آتا ہے تو وہ شرمگاہ سے باہر انزال کرتا ہے تاکہ اس کی منی بچہ دانی میں داخل نہ ہو سکے کہ جس سے وہ حاملہ ہو جائے یہ کام کیسا ہے؟۔ ۳؎: بچے کی پیدائش یا عدم پیدائش میں عزل یا غیر عزل کا دخل نہیں بلکہ یہ تقدیر کا معاملہ ہے۔ اگر کسی بچے کی پیدائش لکھی جا چکی ہے تو تم اس کے وجود کے لیے موثر نطفے کو باہر ڈال ہی نہ سکو گے، اس کا انزال شرمگاہ کے اندر ہی ہو گا، اور وہ حمل بن کر ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/النکاح 22 (1438)، (تحفة الأشراف: 4113)، مسند احمد (3/11)، سنن الدارمی/النکاح 36 (2270) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ الزُّرَقِيَّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَا قَدْ قُدِّرَ فِي الرَّحِمِ سَيَكُونُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا ، اس نے کہا : میری بیوی دودھ پلاتی ہے ، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رحم میں جس کا آنا مقدر ہو چکا ہے وہ ہو کر رہے گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: چاہے تم عزل کرو یا نہ کرو اس لیے عزل کر کے بے مزہ ہونا اچھا نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12045)، مسند احمد (3/450) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔