مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3328
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ جُدَامَةَ بِنْتَ وَهْبٍ حَدَّثَتْهَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ , وَالرُّومَ يَصْنَعُهُ " , وَقَالَ إِسْحَاق : " يَصْنَعُونَهُ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` جدامہ بنت وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا ارادہ ہوا کہ «غیلہ» سے روک دوں پھر مجھے خیال ہوا کہ روم و فارس کے لوگ بھی «غیلہ» کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا “ ۔ اسحاق ( راوی ) کی روایت میں «یصنعہ» کی جگہ «یصنعونہ» ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «غیلہ» یعنی دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3328
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/النکاح 24 (1442)، سنن ابی داود/الطب 16 (3882)، سنن الترمذی/الطب 27 (2076)، سنن ابن ماجہ/النکاح 6 (2011)، (تحفة الأشراف: 15786)، موطا امام مالک/الرضاع 3 (16)، مسند احمد (6/361، 434)، سنن الدارمی/النکاح 33 (2263) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔