مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3309
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَالَ الْحَارِثُ : فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں` اللہ عزوجل نے جو نازل فرمایا اس میں یہ ( حارث کی روایت میں قرآن میں جو نازل ہوا اس میں تھا ) «عشر رضعات معلومات يحرمن» ( دس ( واضح ) معلوم گھونٹ نکاح کو حرام کر دیں گے ) ، پھر یہ دس گھونٹ منسوخ کر کے پانچ معلوم گھونٹ کر دیا گیا ( یعنی خمس رضعات معلومات ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ، اور یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی رہی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: آپ کے انتقال کے قریبی زمانہ میں پانچ گھونٹ کی بھی آیت منسوخ ہو گئی، لیکن جنہیں بروقت اس کے منسوخ ہونے کا پتہ نہ چل سکا، انہوں نے اس کے پڑھے جانے کا ہی ذکر کر دیا ہے۔ پھر جب انہیں منسوخ ہونے کا علم ہو گیا تو انہوں نے بھی اس کا پڑھنا (و لکھنا) ترک کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الرضاع 6 (1452)، سنن ابی داود/النکاح 11 (2062)، سنن الترمذی/الرضاع 3 (1150)، سنن ابن ماجہ/النکاح 35 (1942)، (تحفة الأشراف: 17897)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (1)، سنن الدارمی/النکاح 49 (2299) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3310
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَأَيُّوبُ , عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الرَّضَاعِ ، فَقَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ ، وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ " , وَقَالَ قَتَادَةُ : " الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام الفضل رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رضاعت ( یعنی دودھ پلانے ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” ایک بار اور دو بار کا پلانا ( نکاح کو ) حرام نہیں کرتا “ ۔ قتادہ اپنی روایت میں «الإملاجة ولا الإملاجتان‏» کی جگہ «المصة والمصتان» کہتے ہیں ، یعنی ” ایک بار یا دو بار چھاتی کا چوسنا نکاح کو حرام نہ کرے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الرضاع 5 (1451)، سنن ابن ماجہ/النکاح 35 (1940)، (تحفة الأشراف: 18051)، مسند احمد (6/339، 340)، سنن الدارمی/النکاح 49 (2298) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3311
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5281)، مسند احمد (4/4، 5) (صحیح، انظر ما بعدہ 3102)»
حدیث نمبر: 3312
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا ( نکاح کو ) حرام نہیں کرتا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایک گھونٹ یا دو گھونٹ دودھ پی لینے سے اس سے نکاح کی حرمت کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الرضاع 5 (1450)، سنن ابی داود/النکاح11 (2063)، سنن الترمذی/الرضاع3 (1150)، سنن ابن ماجہ/النکاح35 (1941)، (تحفة الأشراف: 17189)، مسند احمد 6/31، 95، 216، 247) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3313
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ، نَسْأَلُهُ عَنِ الرَّضَاعِ ؟ فَكَتَبَ , أَنَّ شُرَيْحًا حَدَّثَنَا , أَنَّ عَلِيًّا , وَابْنَ مَسْعُودٍ ، كانا يقولان : يحرم من الرضاع قليله وكثيره ، وكان في كتابه أن أبا الشعثاء المحاربي حَدَّثَنَا , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَالْخَطْفَتَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قتادہ کہتے ہیں کہ` ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس ( خط ) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے ( جواب میں ) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت ( نکاح ) ثابت ہو جائے گی ، اور ان کی کتاب ( تحریر ) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” ایک بار یا دو بار اچک لینے ( یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے ) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لیے یہاں قول صحابہ پر نہیں قول رسول پر عمل ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10124، 16133) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3314
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَقَالَ : " انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ وَمَرَّةً أُخْرَى انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ( اس وقت ) میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا یہ آپ پر بڑا گراں گزرا ، میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی تو کہا : اللہ کے رسول ! یہ شخص میرا رضاعی بھائی ہے ، آپ نے فرمایا : ” اچھی طرح دیکھ بھال لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں ، کیونکہ دودھ پینے کا اعتبار بھوک میں ( جبکہ دودھ ہی غذا ہو ) ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الشہادات 7 (2647)، النکاح 22 (5102)، صحیح مسلم/الرضاع 8 (1455)، سنن ابی داود/النکاح 9 (2058)، سنن ابن ماجہ/النکاح 35 (1945)، (تحفة الأشراف: 1758)، مسند احمد (6/94، 138، 174، 241) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔