مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: بیوی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3290
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نکاح میں ) عورت اور اس کی پھوپھی کو نہ جمع کیا جائے گا ، اور نہ ہی عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کسی شخص کی زوجیت میں بھتیجی اور پھوپھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں، اور نہ ہی بھانجی اور اس کی خالہ ایک ساتھ رہ سکتی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3290
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/النکاح 27 (5109)، صحیح مسلم/النکاح 4 (1408)، (تحفة الأشراف: 13812) موطا امام مالک/النکاح 8 (20)، مسند احمد (2/465، 516، 529، 532)، سنن الدارمی/النکاح 8 (2224) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3291
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الوَهَّابِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي قُبَيْصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ( کسی کی زوجیت میں ) عورت اور اس کی پھوپھی کو ، عورت اور اس کی خالہ کو اکٹھا کیا جائے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اگر ایک عورت سے شادی کر چکا ہے تو دوسری شادی وہ اس کی خالہ یا اس کی پھوپھی سے نہیں کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3291
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/النکاح 27 (5110، 5111)، صحیح مسلم/النکاح 4 (1408)، سنن ابی داود/النکاح 13 (2066)، (تحفة الأشراف: 14288)، مسند احمد (2/401، 452، 518) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3292
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ حَدَّثَهُ , عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، أَوْ خَالَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ عورت کو اس کی پھوپھی ، یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کیا جائے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کسی عورت کی پھوپھی یا اس کی خالہ نکاح میں ہو تو اُس عورت سے شادی نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3292
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/النکاح 4 (1408)، (تحفة الأشراف: 14156) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3293
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَرْبَعِ : نِسْوَةٍ يُجْمَعُ بَيْنَهُنَّ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ، عورت اور اس کی پھوپھی کو ، عورت اور اس کی خالہ کو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی بھتیجی اور اس کی پھوپھی کو، بھانجی اور اس کی خالہ کو نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3294
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی عورت سے شادی نہ کی جائے جس کی پھوپھی پہلے سے اس کی نکاح میں موجود ہو ۱؎ اور نہ ہی ایسی عورت سے شادی کی جائے جس کی خالہ پہلے سے اس کے نکاح میں ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی منکوحہ کی بھتیجی اور بھانجی سے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14103) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3295
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت سے ( نکاح میں ) اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/النکاح 4 (1408)، (تحفة الأشراف: 14990)، مسند احمد (2/229، 394) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3296
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں شادی نہ کی جائے ، اور نہ ہی اس کی خالہ کی موجودگی میں اس سے شادی کی جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3296
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15434) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔