کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کنواری لڑکی سے اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3268
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ ، قِيلَ : فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي وَتَسْكُتُ ، قَالَ : " هُوَ إِذْنُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں سے ان کی شادی کے بارے میں مشورہ کیا کرو “ ، کہا گیا : کنواری لڑکی تو شرم کرتی ہے ، اور چپ رہتی ہے ( بول نہیں پاتی ) ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/النکاح 41 (5137)، والإکراہ 3 (6946)، والحیل 11 (6971)، صحیح مسلم/النکاح 9 (1420)، مسند احمد (6/45، 165، 203) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3269
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَسْكُتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوہ کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لے لیا جائے اور کنواری لڑکی کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کی اجازت کیسے جانی جائے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کا خاموش رہنا “ ( ہی اس کی اجازت ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3269
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/النکاح 41 (5136)، الإکراہ 3 (6946)، الحیل 11 (6968)، صحیح مسلم/النکاح 9 (1419)، (تحفة الأشراف: 15425)، مسند احمد (2/ 434)، سنن الدارمی/النکاح 13 (2232) (صحیح)»