کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: بیوہ کی شادی کے لیے اس کی اجازت ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 3267
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ : " إِذْنُهَا أَنْ تَسْكُتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوہ عورت کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور نہ ہی کنواری کی شادی اس کی مرضی جانے بغیر کی جائے “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کی اجازت کیسے جانی جائے ؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ چپ رہے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: وہ تو ایسے مواقع پر بہت شرماتی ہے بول نہیں پاتی ہے۔ ۲؎: یعنی وہ چپ رہتی ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس رشتہ پر راضی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15433)، سنن ابن ماجہ/النکاح 11 (1871)، مسند احمد (2/229، 250، 279، 425، 434)، سنن الدارمی/النکاح13 (2232) (صحیح)»