کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3221
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ " , قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " فَقُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا ، تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نکاح کیا ، اور ( اور بیوی کے ساتھ پہلی رات گزارنے کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے کہا : ” جابر ! کیا تم نے نکاح کیا ہے ؟ “ میں نے کہا : ہاں ! آپ نے کہا : ” کنواری سے ( شادی کی ہے ) یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا : بیوہ سے “ ، آپ نے فرمایا : ” کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی ؟ “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/البیوع 43 (2097)، الوکالة 8 (2309)، الجہاد 113 (2967)، المغازي 18 (4052)، النکاح10 (5079)، 121 (5245)، 122 (5247)، النفقات 12 (5367)، الدعوات 53 (6387)، صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن الترمذی/النکاح 13 (1100)، (تحفة الأشراف: 2512)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 3 (2048)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، مسند احمد (3/294، 302، 314، 362، 374، 376)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3222
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ , هَلْ أَصَبْتَ امْرَأَةً بَعْدِي ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَبِكْرًا أَمْ أَيِّمًا ؟ " قُلْتُ : أَيِّمًا ؟ قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” جابر ! کیا تم مجھ سے اس سے پہلے ملنے کے بعد بیوی والے ہو گئے ہو ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” کیا کسی کنواری سے یا بیوہ سے ؟ “ میں نے کہا : بیوہ سے ، آپ نے فرمایا : ” کنواری سے شادی کیوں نہ کہ جو تمہیں کھیل کھلاتی ؟ “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2465) (صحیح)»