حدیث نمبر: 3214
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا ، اور اگر آپ انہیں اس کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی نکاح و شادی بیاہ کے مراسم سے علاحدہ ہو کر صرف عبادت الٰہی میں مشغول رہتے، اور ہم اپنے آپ کو ایسا کر لیتے کہ ہمیں عورتوں کی خواہش ہی نہ رہ جاتی۔
حدیث نمبر: 3215
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا ۔
حدیث نمبر: 3216
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَتَادَةُ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ مِنْ أَشْعَثَ , وَحَدِيثُ أَشْعَثَ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے ۱؎ واللہ أعلم ۔
وضاحت:
۱؎: وجہ اس کی یہ ہے کہ اشعث کی روایت میں حسن اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان ایک واسطہ سعد بن ہشام کا ہے جب کہ قتادہ کی روایت میں حسن اور صحابی رسول سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کے درمیان کوئی دوسرا واسطہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3217
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِيَ الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ طَوْلًا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، أَفَأَخْتَصِي ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى قَالَ : ثَلَاثًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ ، فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ دَعْ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : الْأَوْزَاعِيُّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ الزُّهْرِيِّ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ , قَدْ رَوَاهُ يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں ، اور عورتوں سے شادی کر لینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا ، تو کیا میں خصی ہو جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوہریرہ ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم ( بہت پہلے ) خشک ہو چکا ہے ، اب چاہو تو تم خصی ہو جاؤ یا نہ ہو “ ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اوزاعی نے ( ابن شہاب ) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے ، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جو کچھ تمہاری قسمت میں لکھا جا چکا ہے اس میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں ہونی ہے لہٰذا تمہاری قسمت میں اگر اولاد لکھی جا چکی ہے تو ضرور ہو گی اب سوچ لو کہ خصی ہونے سے کیا فائدہ ہو گا؟
حدیث نمبر: 3218
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَسَنُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ ؟ قَالَتْ : " فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38 , فَلَا تَتَبَتَّلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ` وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور کہا : میں مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہنے کے سلسلے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا : ایسا ہرگز نہ کرنا ، کیا تم نے نہیں سنا ہے ؟ اللہ عزوجل فرماتا ہے : «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ” ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا “ ( الرعد : ۳۸ ) تو ( اے سعد ! ) تم «تبتل» ( اور رہبانیت ) اختیار نہ کرو ۔
وضاحت:
۱؎: آیت میں «أَزْوَاجًا» سے رہبانیت اور «ذُرِّيَّةًً» سے خاندانی منصوبہ بندی کی تر دید ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3219
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا آكُلُ اللَّحْمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَصُومُ فَلَا أُفْطِرُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا ؟ لَكِنِّي أُصَلِّي ، وَأَنَامُ ، وَأَصُومُ ، وَأُفْطِرُ ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي ، فَلَيْسَ مِنِّي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا : میں نکاح ( شادی بیاہ ) نہیں کروں گا ، بعض نے کہا : میں گوشت نہ کھاؤں گا ، بعض نے کہا : میں بستر پر نہ سوؤں گا ، بعض نے کہا : میں مسلسل روزے رکھوں گا ، کھاؤں پیوں گا نہیں ، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ( لوگوں کے سامنے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔ ( مجھے دیکھو ) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں ۔ ( سن لو ) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے ( میرے طریقے پر نہ چلے ) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔