کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: (اللہ کے راستے میں) شہادت مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3164
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ ، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ اسے بھی جنت میں انہیں کی طرح مقام و مرتبہ اور گھر عطا کرے گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإمارة46 (1909)، سنن ابی داود/الصلاة 361 (1520)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 (1653)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2797)، (تحفة الأشراف: 4655)، سنن الدارمی/الجہاد 16 (2451) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3165
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ مَنْ قُبِضَ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ فَهُوَ شَهِيدٌ : الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْغَرِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَبْطُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَطْعُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالنُّفَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہو گا ، اللہ کے راستے ( جہاد ) میں نکلا اور قتل ہو گیا تو وہ شہید ہے ، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مر گیا تو وہ شہید ہے ، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا تو وہ بھی شہید ہے ، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مر گیا وہ بھی شہید ہے ، عورت ( شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے ) حالت نفاس میں مر گئی تو وہ بھی شہید ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9931) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3166
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَحِيرٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ ، فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ : إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا ، وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ : إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ ، كَمَا مُتْنَا ، فَيَقُولُ : رَبُّنَا انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ ، فَإِنْ أَشْبَهَ جِرَاحُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ ، وَمَعَهُمْ ، فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہدا اور اپنے بستروں پر مرنے والے اللہ کے حضور اپنا جھگڑا ( مقدمہ ) پیش کریں گے ، شہید لوگ کہیں گے : یہ ہمارے بھائی ہیں ، جیسے ہم مارے گئے ہیں یہ لوگ بھی مارے گئے ہیں ، اور جو لوگ اپنے بستروں پر وفات پائے ہیں وہ کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں یہ لوگ اپنے بستروں پر مرے ہیں جیسے ہم لوگ اپنے بستروں پر پڑے پڑے مرے ہیں ۔ تو میرا رب کہے گا : ان کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم شہیدوں کے زخم سے ملتے ہیں تو یہ لوگ شہیدوں میں سے ہیں اور شہیدوں کے ساتھ رہیں گے ، تو جب دیکھا گیا تو ان کے زخم شہیدوں کی طرح نکلے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: شہداء کا مقصد اس جھگڑے سے یہ ہے کہ طاعون سے مرنے والوں کے مراتب و درجات ہماری طرح ہو جائیں جب کہ بستروں پر وفات پانے والوں کا جھگڑا محض اس لیے ہو گا کہ طاعون سے مرنے والوں کی طرح ہمیں بھی شہداء کا درجہ ملنا چاہیئے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «(تحفة الأشراف: 9889)، مسند احمد (4/128، 129) (صحیح)»