کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اللہ کے راستے (جہاد) میں مارے جانے کی تمنا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3153
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ سَرِيَّةٍ ، وَلَكِنْ لَا يَجِدُونَ حَمُولَةً ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ، ثُمَّ قُتِلْتُ ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ، ثُمَّ قُتِلْتُ ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میری امت کے لیے یہ بات باعث تکلیف و مشقت نہ ہوتی تو میں کسی بھی فوجی ٹولی و جماعت کے ساتھ نکلنے میں پیچھے نہ رہتا ، لیکن لوگوں کے پاس سواریوں کا انتظام نہیں ، اور نہ ہی ہمارے پاس وافر سواریاں ہیں کہ میں انہیں ان پر بٹھا کر لے جا سکوں ؟ اور وہ لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر رہنا نہیں چاہتے ۔ ( اس لیے میں ہر سریہ ( فوجی دستہ ) کے ساتھ نہیں جاتا ) مجھے تو پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں “ ، آپ نے ایسا تین بار فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجہاد 119 (2972)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، موطا امام مالک/الجہاد 14 (27)، مسند احمد (2/424، 473، 496، (تحفة الأشراف: 12885) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3154
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ بِأَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر بہت سے مسلمانوں کے لیے یہ بات ناگواری اور تکلیف کی نہ ہوتی کہ وہ ہم سے پیچھے رہیں ۔ ( ہمارا ان کا ساتھ چھوٹ جائے ) اور ہمارے ساتھ یہ دقت بھی نہ ہوتی کہ ہمارے پاس سواریاں نہیں ہیں جن پر ہم انہیں سوار کرا کے لے جائیں تو میں اللہ کے راستے میں جنگ کرنے کے لیے نکلنے والے کسی بھی فوجی دستہ سے پیچھے نہ رہتا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3154
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجہاد 7 (2797)، (تحفة الأشراف: 13154) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3155
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ يَقْبِضُهَا رَبُّهَا تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، غَيْرُ الشَّهِيد " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ ابْنُ أَبِي عَمِيرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بھی مسلمان شخص جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اس دنیا سے جا چکا ہو یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ پھر لوٹ کر تمہارے پاس اس دنیا میں آئے اگرچہ اسے دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں دے دی جائیں سوائے شہید کے ۱؎ ، مجھے اپنا اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جانا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میری ملکیت میں دیہات ، شہر و قصبات کے لوگ ہوں “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: شہید ہی کی ایک ایسی ہستی ہے جو باربار دنیا میں آنا اور اللہ کے راستے میں مارا جانا پسند کرتی ہے۔ ۲؎: یعنی سب کے سب میرے غلام ہوں اور میں انہیں آزاد کرتا رہوں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3155
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11227)، مسند احمد (4/216) (حسن)»