حدیث نمبر: 3142
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَالَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا شَيْءَ لَهُ " , فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا شَيْءَ لَهُ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا ، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کیا : آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے ، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے ، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے ، اسے کیا ملے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے کچھ نہیں ہے “ ۱؎ ۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو ، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہیں تھی اس لیے وہ ثواب سے محروم رہے گا۔