کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جہاد فی سبیل اللہ کے برابر کیا چیز ہے؟ (کوئی نہیں)۔
حدیث نمبر: 3130
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ ، أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ ؟ قَالَ : " لَا أَجِدُهُ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ تَدْخُلُ مَسْجِدًا ، فَتَقُومَ لَا تَفْتُرَ ، وَتَصُومَ لَا تُفْطِرَ ؟ " , قَالَ : مَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ؟ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، پھر اس نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو ( یعنی وہی درجہ رکھتا ہو ) آپ نے فرمایا : ” میں نہیں پاتا کہ تو وہ کر سکے گا ، جب مجاہد جہاد کے لیے ( گھر سے ) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ ، اور کھڑے ہو کر نمازیں پڑھنی شروع کرو ( اور پڑھتے ہی رہو ) پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو ، اور روزے رکھو ( رکھتے جاؤ ) افطار نہ کرو “ ، اس نے کہا یہ کون کر سکتا ہے ؟ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کوئی نہیں کر سکتا ہے، معلوم ہوا کہ مجاہد جس درجہ پر فائز ہے اس تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3130
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجہاد 1 (2785)، (تحفة الأشراف: 12842)، صحیح مسلم/الإمارة 29 (1878)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 1 (1619)، مسند احمد (2/344، 424) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3131
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا عمل سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3131
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العتق 2 (2518)، صحیح مسلم/الإیمان 35 (84)، سنن ابن ماجہ/العتق 4 (2523)، (تحفة الأشراف: 12004)، مسند احمد (5/150، 163، 171، سنن الدارمی/الرقاق 28 (2780) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3132
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ " قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ، قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا عمل سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ پر ایمان لانا “ ، اس نے کہا : پھر کون سا عمل ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنا “ ، اس نے کہا : پھر کون سا عمل ؟ آپ نے فرمایا : ” ایسا حج جو اللہ کے نزدیک قبول ہو جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2625 (صحیح)»