کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: شام کے وقت جہاد میں جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3121
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد میں صبح کو نکلنا ہو ، یا شام کے وقت یہ کائنات کی ان تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإمارة30 (1883)، (تحفة الأشراف: 3466)، مسند احمد (5/422) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3122
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُ : الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے ، ( ایک ) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا ، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مکاتب ۱؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہو جانے کی کوشش کر رہا ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: مکاتب ایسا غلام ہے جو اپنی ذات کی آزادی کی خاطر مالک کیلئے کچھ قیمت متعین کر دے، قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3122
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 20 (1655)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2518)، (تحفة الأشراف: 13039)، ویأتی عند المؤلف فی النکاح5 (برقم3220) (حسن)»