کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 3099
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر گیا ، اور اس نے جہاد نہیں کیا ، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎ ، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: دل میں سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں مجاہد بننے کی تمنا کرے، اور ارادہ کا مطلب یہ ہے کہ جہاد سے متعلق ساز و سامان کے حصول کی کوشش اور اس کے لیے تیاری کرے۔ ۲؎: گویا وہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کے مشابہ ہو گیا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3099
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإمارة (910)، سنن ابی داود/الجہاد 18 (2502)، (تحفة الأشراف: 12567)، مسند احمد (2/374) (صحیح)»