مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریوں کی تعداد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3078
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا ، حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر کہتے ہیں کہ` ہم جابر بن عبداللہ کے پاس گئے تو میں نے ان سے کہا : آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال بتائیے ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرہ کو جو درخت کے قریب ہے سات کنکریاں ماریں ، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے ، کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکیں ۔ آپ نے وادی کے اندر سے رمی کی ، پھر آپ منحر ( قربان گاہ ) کی طرف پلٹے اور قربانی کی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3078
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 3056 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3079
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ : قَالَ مُجَاهِدٌ ، قَالَ سَعْدٌ : " رَجَعْنَا فِي الْحَجَّةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضُنَا يَقُولُ : رَمَيْتُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، وَبَعْضُنَا يَقُولُ : رَمَيْتُ بِسِتٍّ ، فَلَمْ يَعِبْ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں لوٹے ۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا : ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا : ہم نے چھ ماریں ، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3079
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، لانقطاعه مجاهد لم يدرك سعد بن أبى وقاص رضى الله عنه انوار الصحيفه، صفحه نمبر 344
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3917)، مسند احمد (1/168) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3080
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ , يَقُولُ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ ؟ فَقَالَ : " مَا أَدْرِي رَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومجلز کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3080
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الحج 78 (1977)، (تحفة الأشراف: 6541)، مسند احمد (1/372) (صحیح) (حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن اگلی حدیث میں سات کنکریاں مارنے کا بیان ہے، اس لیے اس میں موجود شک چھ یا سات کنکری کی بات غریب اور خود ابن عباس اور دوسروں کی احادیث کے خلاف ہے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔