مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جمرہ عقبہ کی رمی کہاں سے کی جائے؟
حدیث نمبر: 3072
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُحَيَّاةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، قَالَ : قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ ، قَالَ : فَرَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، ثُمَّ قَالَ : " مِنْ هَا هُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ` کچھ لوگ جمرہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں ، تو عبداللہ بن مسعود نے وادی کے نیچے سے کنکریاں ماریں ، پھر کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، اسی جگہ سے اس شخص نے کنکریاں ماریں جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3072
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 350 (1747)، 36 (1748)، 37 (1749)، 38 (1750)، صحیح مسلم/الحج 50 (1296)، سنن ابی داود/الحج 78 (1974)، سنن الترمذی/الحج 64 (901)، سنن ابن ماجہ/الحج 64 (3030)، (تحفة الأشراف: 9382)، مسند احمد (1/415، 427، 430، 432، 436، 456، 457، 458) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3073
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَمَالِكُ بْنُ الْخَلِيلِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، وَمَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : رَمَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَعَرَفَةَ , عَنْ يَمِينِهِ , وَقَالَ : " هَا هُنَا مَقَامِ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " ، قَالَ : أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مَا أَعْلَمُ أَحَدًا ، قَالَ : فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْصُورٌ غَيْرَ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کو اپنے بائیں جانب کیا اور عرفہ کو اپنے دائیں جانب اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں ، اور کہا : یہی اس ذات کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ابن ابی عدی کے سوا میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں منصور کے ہونے کی بات کہی ہو ، واللہ اعلم ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3073
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3074
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ، ثُمَّ قَالَ : " هَا هُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ` میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں ، پھر کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، یہی ہے اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ جس پر سورۃ البقرہ اتاری گئی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3074
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 3072 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3075
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ : " لَا تَقُولُوا : سُورَةَ الْبَقَرَةِ قُولُوا : السُّورَةَ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ " فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَعْرَضَهَا يَعْنِي الْجَمْرَةَ ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَكَبَّرَ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أُنَاسًا يَصْعَدُونَ الْجَبَلَ ، فَقَالَ : " هَا هُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ رَمَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اعمش کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو کہتے سنا کہ ” سورۃ البقرہ “ نہ کہو ، بلکہ کہو ” وہ سورۃ جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے “ میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا ، تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا ہے کہ وہ عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) کے ساتھ تھے جس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں ، وہ وادی کے اندر آئے ، اور جمرہ کو اپنے نشانہ پر لیا ، اور سات کنکریاں ماریں ، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی ، تو میں نے کہا : بعض لوگ ( کنکریاں مارنے کے لیے ) پہاڑ پر چڑھتے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، یہی جگہ ہے جہاں سے میں نے اس شخص کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۃ البقرہ کہنا درست ہے اور حجاج کا خیال صحیح نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3075
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 3072 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3076
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَذَكَرَ آخَرُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی چٹکی میں آنے والی جیسی کنکریوں سے کی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3076
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2883) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3077
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چٹکی میں آنے والی جیسی کنکریوں سے جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3077
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الحج 52 (1299)، سنن الترمذی/الحج 61 (897)، (تحفة الأشراف: 2809)، مسند احمد (3/313، 319، 356) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔