مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: شام ہو جانے کے بعد رمی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3069
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ أَيَّامَ مِنًى فَيَقُولُ : " لَا حَرَجَ " فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قَالَ : " لَا حَرَجَ " فَقَالَ رَجُلٌ : رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ ، قَالَ : " لَا حَرَجَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` منیٰ کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حج کے مسائل ) پوچھے جاتے تو آپ فرماتے ” کوئی حرج نہیں “ ، ایک شخص نے آپ سے پوچھا : میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا ؟ آپ نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ، اور ایک دوسرے شخص نے کہا : شام ہو جانے کے بعد میں نے کنکریاں ماریں ؟ آپ نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3069
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج «صحیح البخاری/العلم 24 (84)، الحج 125 (1723)، 130 (1735)، الأیمان 15 (6666)، سنن ابی داود/الحج 79 (1983)، سنن ابن ماجہ/الحج 74 (3050)، (تحفة الأشراف: 6047)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 57 (1307)، مسند احمد (1/216، 258، 269، 291، 300، 311، 328) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔