مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کتنی بڑی کنکریاں مارے؟
حدیث نمبر: 3061
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ : " هَاتِ الْقُطْ لِي ، فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنّ حَصَى الْخَذْفِ ، فَوَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ ، وَجَعَلَ يَقُولُ بِهِنَّ فِي يَدِهِ " , وَوَصَفَ يَحْيَى تَحْرِيكَهُنَّ فِي يَدِهِ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح کو فرمایا اور آپ اپنی سواری کو روکے ہوئے تھے : ” آؤ میرے لیے کچھ کنکریاں چن دو “ ، تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں ۔ یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں ، تو میں نے انہیں آپ کے ہاتھ میں لا کر رکھا ، تو آپ انہیں اپنے ہاتھ میں حرکت دینے لگے ۔ اور یحییٰ نے انہیں اپنے ہاتھ میں ہلا کر بتایا کہ اسی طرح کی کنکریاں یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ جائیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں ابن عباس سے مراد فضل ہیں (ملاحظہ ہو ۳۰۵۹، ۳۰۶۰)۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3061
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 3059 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔