مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: وادی محسر میں اونٹ کو تیز بھگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3055
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹ کو تیز دوڑایا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3055
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «سنن الترمذی/الحج 55 (886)، (تحفة الأشراف: 2751) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3056
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلًا ، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى ، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ ، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا ، حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ` ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو میں نے کہا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں ۔ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا ، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے ، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی ، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے ۔ آپ نے ( وہاں پہنچ کر ) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں ، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے ، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3056
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2623، 2636)، انظر حدیث رقم: 2975)، ویأتي عند المؤلف: 3056 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔