کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: کمزور اور ضعیف لوگوں کو قربانی کے دن نماز فجر منیٰ میں پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3051
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَشْهَبَ ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ، فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے خاندان کے کمزور لوگوں کے ساتھ ( رات ہی میں ) بھیج دیا تو ہم نے نماز فجر منیٰ میں پڑھی ، اور جمرہ کی رمی کی ۔
حدیث نمبر: 3052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " وَدِدْتُ أَنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ ، فَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ بِمِنًى ، قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ وَكَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً ، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا ، فَصَلَّتِ الْفَجْرَ بِمِنًى ، وَرَمَتْ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` مجھے خواہش ہوئی کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی جس طرح سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت طلب کی تھی ۔ اور لوگوں کے آنے سے پہلے میں بھی منیٰ میں نماز فجر پڑھتی ، سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( پہلے ہی لوٹ جانے کی ) اجازت مانگی ۔ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی ، تو انہوں نے فجر منیٰ میں پڑھی ، اور لوگوں کے پہنچنے سے پہلے رمی کر لی ۔
حدیث نمبر: 3053
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " جِئْتُ مَعَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ مِنًى بِغَلَسٍ ، فَقُلْتُ لَهَا : لَقَدْ جِئْنَا مِنًى بِغَلَسٍ ، فَقَالَتْ : قَدْ كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ` میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا ۔ میں نے ان سے کہا : ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آ گئے ( حالانکہ دن میں آنا چاہیئے ) ، تو انہوں نے کہا : ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے ( یعنی غلس میں آتے تھے ) جو تم سے بہتر تھے ۔
حدیث نمبر: 3054
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ : " كَانَيُسَيِّرُ نَاقَتَهُ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ کہتے ہیں کہ` اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا ، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے ، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز بھگاتے ۔