مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مزدلفہ سے لوٹنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3050
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : شَهِدْتُ عُمَرَ بِجَمْعٍ فَقَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَيَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ` میں مزدلفہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، تو وہ کہنے لگے : اہل جاہلیت جب تک سورج نکل نہیں جاتا مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے ، کہتے تھے «أشرق ثبیر» ” اے ثبیر روشن ہو جا “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی ، پھر وہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے ۔
وضاحت:
۱؎: ثبیر مزدلفہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3050
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 100 (1684)، ومناقب الأنصار 26 (3838)، سنن ابی داود/الحج 65 (1938)، سنن الترمذی/الحج 60 (896)، سنن ابن ماجہ/الحج 61 (3022)، (تحفة الأشراف: 10616)، مسند احمد (1/14، 29، 39، 42، 50، 54)، سنن الدارمی/المناسک 55 (1932) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔