حدیث نمبر: 3050
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : شَهِدْتُ عُمَرَ بِجَمْعٍ فَقَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَيَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ` میں مزدلفہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، تو وہ کہنے لگے : اہل جاہلیت جب تک سورج نکل نہیں جاتا مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے ، کہتے تھے «أشرق ثبیر» ” اے ثبیر روشن ہو جا “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی ، پھر وہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے ۔
وضاحت:
۱؎: ثبیر مزدلفہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔