مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3029
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3029
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 606 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3030
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء دونوں مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3030
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 609 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3031
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ، لَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا ، وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ ایک تکبیر سے پڑھیں ، نہ ان دونوں کے بیچ میں کوئی نفل پڑھی ، اور نہ ہی ان دونوں نمازوں کے بعد ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3031
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 661 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3032
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ قَالَ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ " ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَجْمَعُ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں ، ان دونوں کے درمیان اور کوئی نماز نہیں پڑھی ۔ مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی دو رکعتیں ۔ اور عبداللہ بن عمر اسی طرح دونوں نمازیں جمع کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3032
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الحج47 (1288)، (تحفة الأشراف: 7309) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3033
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک اقامت سے پڑھی ۔
وضاحت:
۱؎: خود ابن عمر رضی الله عنہما ہی سے ایک دوسری روایت بھی مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نمازیں آپ نے الگ الگ اقامت کے ساتھ جمع کیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3033
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بزيادة لكل منهما , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 482 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3034
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَّ كُرَيْبًا ، قَالَ : سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، فَقُلْتُ : كَيْفَ فَعَلْتُمْ ؟ قَالَ : " أَقْبَلْنَا نَسِيرُ ، حَتَّى بَلَغْنَا الْمُزْدَلِفَةَ ، فَأَنَاخَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ ، فَأَنَاخُوا فِي مَنَازِلِهِمْ ، فَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ ، فَنَزَلُوا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ، انْطَلَقْتُ عَلَى رِجْلَيَّ فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ وَرَدِفَهُ الْفَضْلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کریب کہتے ہیں کہ` میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا : آپ لوگوں نے کیسے کیا ؟ انہوں نے کہا : ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو بٹھایا ، پھر مغرب پڑھی ، پھر آپ نے لوگوں کو ( اترنے کی اطلاع ) بھیجی ، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے ۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی ۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا ، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا ۔ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( اونٹ پر ) سوار ہوئے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الحج 64 (1921)، سنن ابن ماجہ/الحج 59 (3019)، موطا امام مالک/الحج 65 (197)، (تحفة الأشراف: 116)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 6 (139)، 35 (181)، الحج 93، 95 (1667، 1669، 1672)، صحیح مسلم/الحج45، 47 (1280)، مسند احمد (5/200، 202، 208، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔