مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون سے چلنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3022
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ الْوَضَّاحِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : لَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَنَقَ نَاقَتَهُ حَتَّى أَنَّ رَأْسَهَا لَيَمَسُّ وَاسِطَةَ رَحْلِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ : " السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوغطفان بن طریف سے روایت ہے کہ` انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے ( مزدلفہ کے لیے چلے ، تو آپ نے اپنی اونٹنی کی مہار کھینچی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کی لکڑی سے چھونے لگا ، آپ عرفہ کی شام میں ( مزدلفہ کے لیے چلتے وقت لوگوں سے ) فرما رہے تھے : ” اطمینان و سکون کو لازم پکڑو ، اطمینان و سکون کو لازم پکڑو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3022
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6568)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 94 (1671)، صحیح مسلم/الحج 45 (1282)، سنن ابی داود/الحج 64 (1920)، مسند احمد (1/269) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3023
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ ، وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى , قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ " , فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے` اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو اپنی اونٹنی روک کر لوگوں سے فرمایا : ” اطمینان و وقار کو لازم پکڑو “ یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے ، اور وہ منیٰ کا ایک حصہ ہے ، تو فرمایا : ” چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو جسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مارا جا سکے “ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر تلبیہ پکارتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3023
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الحج 45 (1282)، (تحفة الأشراف: 11057)، مسند احمد (1/210، 211، 313)، سنن الدارمی/المناسک 56 (1933)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3060 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3024
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے ، آپ پر سکینت طاری تھی ، آپ نے لوگوں کو بھی اطمینان و سکون سے واپس ہونے کا حکم دیا ، اور وادی محسر میں اونٹ کو تیزی سے دوڑایا ، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اتنی چھوٹی کنکریوں سے جمرہ کی رمی کریں جنہیں وہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مار سکیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3024
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الحج 66 (1944)، (886)، سنن ابن ماجہ/الحج 61 (3023)، (تحفة الأشراف: 2747)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 55 مسند احمد (3/301، 332، 367، 391)، سنن الدارمی/المناسک 56 (1933) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3025
أَخْبَرَنِي أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ ، وَجَعَلَ يَقُولُ : " السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ " , يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ أَيُّوبُ بِبَاطِنِ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے اور کہنے لگے : ” اللہ کے بندو ! اطمینان و سکون کو لازم پکڑو “ ، آپ اس طرح اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے ، اور ایوب نے اپنی ہتھیلی کے باطن سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3025
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2672)، مسند احمد 3/355، 371) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔