مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عرفات میں دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3014
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، يَدْعُو فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ ، فَسَقَطَ خِطَامُهَا ، فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ الْأُخْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا ۔ تو آپ نے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے ، اتنے میں آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر مڑی تو اس کی نکیل گر گئی تو آپ نے ایک ہاتھ سے اسے پکڑ لیا ، اور دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3014
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 111)، مسند احمد (5/209) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 3015
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ قُرَيْشٌ تَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَيُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَسَائِرُ الْعَرَبِ تَقِفُ بِعَرَفَةَ فَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعُ مِنْهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے ، اور اپنا نام حمس رکھتے تھے ، باقی تمام عرب کے لوگ عرفات میں ، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں ٹھہریں ، پھر وہاں سے لوٹیں ، اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں وہیں سے تم بھی لوٹو “ نازل فرمائی ۔
وضاحت:
۱؎: حمس احمس کی جمع ہے چونکہ وہ اپنے دینی معاملات میں جو شیلے اور سخت تھے اس لیے اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3015
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 91 (1665)، تفسیرالبقرة 35 (4520)، صحیح مسلم/الحج 21 (1219)، سنن ابی داود/الحج 58 (1910)، (تحفة الأشراف: 17195)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 53 (884) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3016
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، " فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ هَذَا إِنَّمَا هَذَا مِنَ الْحُمْسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا ، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا ، تو میں نے وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوف کیے ہوئے دیکھا ۔ میں نے کہا : ارے ان کا کیا معاملہ ہے ؟ یہ تو حمس میں سے ہیں ( پھر یہاں کیسے ؟ ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3016
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 91 (1664)، صحیح مسلم/الحج21 (1220)، (تحفة الأشراف: 3193) ، مسند احمد 4/80، سنن الدارمی/المناسک 49 (1920) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3017
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ شَيْبَانَ ، قَالَ : كُنَّا وُقُوفًا بِعَرَفَةَ مَكَانًا بَعِيدًا مِنَ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ : رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ : " كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ` ہم عرفہ کے دن عرفات میں ” موقف “ ( ٹھہرنے کی خاص جگہ ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے ۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ، آپ فرماتے ہیں : تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3017
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الحج 63 (1919)، سنن الترمذی/الحج 53 (883)، سنن ابن ماجہ/الحج 55 (3011) ، مسند احمد 4/137 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3018
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَحَدَّثَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ` ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو ہم ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عرفات سارا کا سارا موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3018
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الحج 20 (1218)، سنن ابی داود/الحج 57 (1907، 1908)، 65 (1936)، (تحفة الأشراف: 2596)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 73 (3048) ، مسند احمد 3/321، 326، سنن الدارمی/المناسک 50 (1921)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3048 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔