مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عرفہ کے دن خطبہ میں اختصار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3012
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ جَاءَ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَهُ ، فَقَالَ : الرَّوَاحَ , إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ , فَقَالَ : هَذِهِ السَّاعَةَ , قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ سَالِمٌ : فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ : " إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ الْيَوْمَ السُّنَّةَ فَأَقْصِرِ الْخُطْبَةَ ، وَعَجِّلِ الصَّلَاةَ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : صَدَقَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن جس وقت سورج ڈھل گیا حجاج بن یوسف کے پاس آئے ، اور میں ان کے ساتھ تھا ۔ اور کہا : اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو آؤ چلیں ۔ تو حجاج نے کہا : اسی وقت ، انہوں نے کہا : ہاں ( اسی وقت ) ، سالم کہتے ہیں : میں نے حجاج سے کہا : اگر آپ آج سنت کو پانا چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں ، اور نماز جلدی پڑھیں ، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اس نے سچ کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3012
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 3008 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔