مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عرفہ میں تلبیہ پکارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3009
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَاتٍ ، فَقَالَ : " مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ ؟ قُلْتُ : يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ ، فَقَالَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ` میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات میں تھا تو وہ کہنے لگے : کیا بات ہے ، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا ۔ میں نے کہا : لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈر رہے ہیں ، ( انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے ) تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ( یہ سن کر ) اپنے خیمے سے باہر نکلے ، اور کہا : «لبيك اللہم لبيك لبيك» ( افسوس کی بات ہے ) علی رضی اللہ عنہ کی عداوت میں لوگوں نے سنت چھوڑ دی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3009
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5630) (صحیح الإسناد)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔