مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عرفات جاتے ہوئے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3004
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ فِي هَذَا الْيَوْمِ ؟ قَالَ : " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَكَانَ مِنْهُمُ الْمُهِلُّ وَمِنْهُمُ الْمُكَبِّرُ ، فَلَا يُنْكِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى صَاحِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ` میں نے عرفہ کی صبح انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آج کے دن تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ مسافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ طے کی ہے ، ان میں سے بعض لوگ تلبیہ پکارتے تھے ، اور بعض تکبیر پکارتے تھے تو ان میں سے کوئی اپنے ساتھی پر نکیر نہیں کرتا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3004
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔