حدیث نمبر: 3000
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ قَالَ : بِمِنًى فَقُلْتُ : أَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ قَالَ : بِالْأَبْطَحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، میں نے کہا : آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ کو یاد ہو ، آپ نے ترویہ کے دن ظہر کہاں پڑھی تھی ؟ تو انہوں نے کہا : منیٰ میں ۔ پھر میں نے پوچھا : کوچ کے دن ۱؎ عصر کہاں پڑھی تھی ؟ انہوں نے کہا : ابطح میں ۔
وضاحت:
۱؎: کوچ کے دن سے مراد یوم نفر آخر یعنی ذی الحجہ کی تیرہویں تاریخ ہے۔ ” ابطح “ مکہ کے قریب ایک وادی ہے جسے محصب بھی کہا جاتا ہے۔