حدیث نمبر: 2998
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ؟ فَقُلْتُ : أَنْزَلَنِي ظِلُّهَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى ، وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، فَإِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَّبَةُ " , وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ : يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران انصاری کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری طرف مڑے اور میں مکہ کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا ، تو انہوں نے پوچھا : تم اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو ؟ میں نے کہا : مجھے اس کے سایہ نے ( کچھ دیر آرام کرنے کے لیے ) اتارا ہے ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جب تم منیٰ کے دو پہاڑوں کے بیچ ہو ، آپ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا تو وہاں ایک وادی ہے جسے ” سربہ “ کہا جاتا ہے ، اور حارث کی روایت میں ہے اسے ” سرربہ “ کہا جاتا ہے تو وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کے نال کاٹے گئے ہیں “ ۔
حدیث نمبر: 2999
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ثِقَةٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِمِنًى ، فَفَتَحَ اللَّهُ أَسْمَاعَنَا حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَسْمَعُ مَا يَقُولُ وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ ، فَقَالَ : بِحَصَى الْخَذْفِ ، وَأَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ أَنْ يَنْزِلُوا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ ، وَأَمَرَ الْأَنْصَارَ أَنْ يَنْزِلُوا فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن معاذ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ آپ جو کچھ فرما رہے تھے ہم اپنی قیام گاہوں میں ( بیٹھے ) سن رہے تھے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حج کے طریقے سکھانے لگے یہاں تک کہ آپ جمروں کے پاس پہنچے تو انگلیوں سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے کے حصے میں ٹھہریں اور انصار کو حکم دیا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں قیام پذیر ہوں ۔