مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حج کا احرام باندھنے والے کے پاس ہدی ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2993
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ , عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ قَالَتْ : فَلَمَّا أَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَحْلِلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا تو جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لی تو آپ نے فرمایا ” جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2993
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 29142، 2951، 2651 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔